ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیں
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیںیہ دل کا ساتھ بہت دیر تک رہے گا نہیں
ہمیں خبر تھی کوئی آنکھ نم نہیں ہو گیہمارے غم میں کہیں کوئی دل دکھے گا نہیں
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
ہمیں خبر تھی کہ یہ درد اب تھمے گا نہیںیہ دل کا ساتھ بہت دیر تک رہے گا نہیں
ہمیں خبر تھی کوئی آنکھ نم نہیں ہو گیہمارے غم میں کہیں کوئی دل دکھے گا نہیں
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گاہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا
تھکے ہارے ہوئے سورج کی بھیگی روشنی میںہواؤں سے الجھتا بادباں کیسا لگے گا
خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیںچلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں
کیسے خوش طبع ہیں اس شہر دل آزار کے لوگموج خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں
مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہناکہیں طے پا رہا ہے شہر کا مسمار رہنا
نمودِ خواب کے اور انہدامِ خواب کے بیچقیامت مرحلہ ہے دل کا ناہموار رہنا