8 اشعار

مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا

Muqaddar Ho Chuka Hai Be Dar O Deewar Rehna

مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا

«مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہنا» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

مقدر ہو چکا ہے بے در و دیوار رہناکہیں طے پا رہا ہے شہر کا مسمار رہنا

نمودِ خواب کے اور انہدامِ خواب کے بیچقیامت مرحلہ ہے دل کا ناہموار رہنا

دلوں کے درمیاں دوری کے دن ہیں اور ہم کواسی موسم میں تنہا برسرِ پیکار رہنا

اندھیری رات اور شورِ سگان کوئے دُشناماور ایسے میں کسی اک آنکھ کا بیدار رہنا

تماشا کرنے والے آ رہے ہیں جوق در جوقگروہ ِپابجولاں! رقص کو تیار رہنا

ہوائے کوئے قاتل بے ادب ہونے لگی ہےچراغِ جادۂ صدق و صفا ہشیار رہنا

یہ دشواری تو آسانی کا خمیازہ ہے ورنہبہت ہی سہل تھا ہم کو بہت دشوار رہنا

ادھر کچھ دن سے اس بستی کو راس آنے لگا ہےہم آشفتہ سروں کے در پے آزار رہنا

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں