افتخار احمد کی آواز میں
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!
کلام: سعید شارق · محفل: دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق · 2026-02-05
«راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔
راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟
کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:-’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں!