7 اشعار

راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!

Raakh mein dhal raha hoon main, phir bhi koi dhuan nahin!

راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!

«راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!» سعید شارق کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

راکھ میں ڈھل رہا ہوں مَیں،پھر بھی کوئی دُھواں نہیں!شعلۂ ہستِ بے نمود! کیا یہ ترا زیاں نہیں؟

کون سُنے گا وقت اور جسم کا یہ مکالمہ:-’’زخم کوئی بھرا؟‘‘ نہیں! : ’’ختم ہُوا نشاں؟‘‘ نہیں!

مہر بہ لب ہے شاخ شاخ، سایہ اُداس اُداس ہےبرگدِ خواب کے تلے، کوئی بھی کارواں نہیں

دیکھتے دیکھتے اُڑی، دِل کی فضا میں اک پریجانے وہ پھر کدھر گئی! (اور، یہ داستاں نہیں)

میرے جُھلسنے سے ذرا تیز تو ہو گئی یہ لَوہوں تو مَیں رائگاں مگر، ایسا بھی رائگاں نہیں!

کیسے کہوں یہاں ہے تُو! کیسے کہوں وہاں ہے تُو!کہنے کو اب کہاں ہے تُو! پھر بھی کہاں کہاں نہیں!

روتے ہیں لوگ زار زار، مَلتے ہیں آنکھیں بار باریہ تو نہیں ہے وہ زمیں! یہ تو وہ آسماں نہیں !

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں