افتخار احمد کی آواز میں
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30
«ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔
ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گاہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا
تھکے ہارے ہوئے سورج کی بھیگی روشنی میںہواؤں سے الجھتا بادباں کیسا لگے گا