8 اشعار

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

Sitaron Se Bhara Yeh Aasman Kaisa Lagega

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

«ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گاہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

تھکے ہارے ہوئے سورج کی بھیگی روشنی میںہواؤں سے الجھتا بادباں کیسا لگے گا

جمے قدموں کے نیچے سے پھسلتی جائے گی ریتبکھر جائے گی جب عمر رواں کیسا لگے گا

اسی مٹی میں مل جائے گی پونجی عمر بھر کیگرے گی جس گھڑی دیوار جاں کیسا لگے گا

بہت اترا رہے ہو دل کی بازی جیتنے پرزیاں بعد از زیاں بعد از زیاں کیسا لگے گا

وہ جس کے بعد ہوگی اک مسلسل بے نیازیگھڑی بھر کا وہ سب شور و فغاں کیسا لگے گا

ابھی سے کیا بتائیں مرگ مجنوں کی خبر پرسلوک کوچۂ نا مہرباں کیسا لگے گا

بتاؤ تو سہی اے جان جاں کیسا لگے گاستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں