ملک افراسیاب کی آواز میں
کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہے
کلام: عرش ملسیانی · محفل: ستم ہو یا کرم دونوں کا ہم پر شکر واجب ہے عرش ملسیانی · 2026-11-01
کسی نغمے میں ہے وہ اور نہ کسی ساز میں ہےرس بھری نرم سی لے جو تری آواز میں ہے
گوش مشتاق کی خود ساختہ تفریق ہے یہورنہ جو ساز ہے باہر ہے وہی ساز میں ہے