راجا اکرام قمر کی آواز میں
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
کلام: خواجہ میر درد · محفل: باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد) · 2025-12-11
«چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم
عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکیتعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم