8 اشعار

چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم

Chaman mein subh yeh kehti thi ho kar chashm tar shabnam

چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم

«چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم

عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکیتعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم

ہمیں تو باغ تجھ بن خانۂ ماتم نظر آیاادھر گل پھاڑتے تھے جیب روتی تھی ادھر شبنم

کرے ہے کچھ سے کچھ تاثیر صحبت صاف طبعوں کیہوئی آتش سے گل کی بیٹھتے رشک شرر شبنم

بھلا ٹک صبح ہونے دو اسے بھی دیکھ لیویں گےکسی عاشق کے رونے سے نہیں رکھتی خبر شبنم

نہیں اسباب کچھ لازم سبک ساروں کے اٹھنے کوگئی اڑ دیکھتے اپنے بغیر از بال و پر شبنم

نہ پایا جو گیا اس باغ سے ہرگز سراغ اس کانہ پلٹی پھر صبا ایدھر نہ پھر آئی نظر شبنم

نہ سمجھا دردؔ ہم نے بھید یاں کی شادی و غم کاسحر خنداں ہے کیوں روتی ہے کس کو یاد کر شبنم

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں