کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا
کلام: ضیاء جالندھری
کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدامیں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا
میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرابے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا
تمہاری چاہت کی چاندنی سے ہر اک شب غم سنور گئی ضیا جالندھری
مہمان شاعر: ضیاء جالندھری
کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدامیں پیاس بانٹتا ہوں ضرورت نہیں تو جا
میں شہر شہر خوابوں کی گٹھری لیے پھرابے دام تھا یہ مال پہ گاہک کوئی نہ تھا