چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنم
کلام: خواجہ میر درد
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم
عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکیتعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
چمن میں صبح یہ کہتی تھی ہو کر چشم تر شبنمبہار باغ گو یوں ہی رہی لیکن کدھر شبنم
عرق کی بوند اس کی زلف سے رخسار پر ٹپکیتعجب کی ہے جاگہ یہ پڑی خورشید پر شبنم
سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیابس ہجوم یاس جی گھبرا گیا
تجھ سے کچھ دیکھا نہ ہم نے جز جفاپر وہ کیا کچھ ہے کہ جی کو بھا گیا