راجا اکرام قمر کی آواز میں
جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30
«جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سےابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں