مقرر

راجا اکرام قمر

@rajaikram19

123
پیش کردہ کلام
110
محفلوں میں شرکت
راجا اکرام قمر کی آواز میں

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار

کلام: افتخارعارف · محفل: وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف) · 2025-11-30

«جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سےابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ستارہ شام سے نکلا ہوا ہے Sitara sham se nikla hua hai نصیر احمد ناصر غزل
  2. 02 عکس ٹوٹا ہے بارہا میرا Aks tuta hai barha mera نصیر احمد ناصر غزل
  3. 03 کشکول ہے تو لا ادھر آ کر لگا صدا Kashkol hai to la idhar aa kar laga sada ضیاء جالندھری غزل
  4. 04 نہ زلف شام نہ روئے سحر کو دیکھتے ہیں Na zulf-e-sham na ru-e-sahar ko dekhte hain اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  5. 05 نہیں آسان ترک عشق کرنا دل سے غم جانا Nahin aasan tark-e-ishq karna dil se gham jaana اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  6. 06 سیر چمن ہے اور وہ گل رو کنار میں Sair-e chaman hai aur woh gul-roo kinaar mein صفی اورنگ آبادی غزل
  7. 07 حسن پر دسترس کی بات نہ کر Husn par dastaras ki baat na kar عرش ملسیانی غزل
  8. 08 شہر کے دوسرے کنارے سے Shehr ke doosre kinare se تنویر دانش