جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار
کلام: افتخارعارف
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سےابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)
مہمان شاعر: افتخارعارف
سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں
ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سےابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں