5 اشعار

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار

Jo Hum Nahin The To Phir Kaun Tha Sar-e-Bazaar

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار

«جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازار» افتخارعارف کا کلام ہے، جسے راجا اکرام قمر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس « وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے (افتخار عارف)» میں 30 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

سمجھ رہے ہیں اور بولنے کا یارا نہیںجو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

ابھی سے برف اُلجھنے لگی ہے بالوں سےابھی تو قرضِ ماہ و سال بھی اُتارا نہیں

سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقتکسی کو ہم نے مدد کیلئے پکارا نہیں

جو ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سرِ بازارجو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

ہم اہلِ دل ہیں محبت کی نسبتوں کے امیںہمارے پاس زمینوں کا گوشوارہ نہیں

— افتخارعارف

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں