نایاب کی آواز میں
چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی
کلام: سیماب اکبر آبادی · محفل: ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی · 2026-01-19
«چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھی
غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوںچلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی