5 اشعار

چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی

Chhupata hoon magar chhupata nahin dard e nihan phir bhi

چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی

«چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی» سیماب اکبر آبادی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی» میں 19 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھی

غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوںچلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی

حجاب اندر حجاب امواج طوفان تجلی ہیںفروغ شمع سے پروانہ ہے آتش بجاں پھر بھی

اشاروں سے نگاہوں سے بہت کچھ منع کرتا ہوںقفس ہی پر جھکی پڑتی ہے شاخ آشیاں پھر بھی

بہت دلچسپ ہے سیمابؔ شام وادئ غربتوطن کی صبح میں کچھ اور تھیں رنگینیاں پھر بھی

— سیماب اکبر آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں