چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھی
کلام: سیماب اکبر آبادی
چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھی
غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوںچلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی
ماضی مرحوم کی ناکامیوں کا ذکر چھوڑ سیماب اکبر آبادی
مہمان شاعر: سیماب اکبر آبادی
چھپاتا ہوں مگر چھپتا نہیں درد نہاں پھر بھینگاہ یاس ہو جاتی ہے دل کی ترجماں پھر بھی
غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوںچلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی