مقرر · کو ہوسٹ

نایاب

@voiceofIk_804

73
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
نایاب کی آواز میں

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18

«ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho ضیاء جالندھری غزل
  2. 02 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki اسماعیل راز
  3. 03 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ Ibtida sa kuch inteha sa kuch شاہین عباس آواز میں دستیاب
  4. 04 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 06 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain... جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 07 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے Dekha ek khwab toh yeh silsile hue جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری Nahin hai munhasir is baat par yaari hamari جواد شیخ آواز میں دستیاب