ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
کلام: مظفر وارثی
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
کب نشاں میرا کسی کو شب ہستی میں ملامیں تو جگنو کی طرح اپنی ہی مٹھی میں ملا
بھاگ نکلا تھا جو طوفاں سے چھڑا کر دامنسر ساحل وہی ڈوبا ہوا کشتی میں ملا
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہےدکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میںجو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے