نایاب کی آواز میں
کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے
کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05
«کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔
کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہےیقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہے
گزرنے والے تھے جو بھی گزر گئے لیکنمیان راہ کوئی بے خبر رکا ہوا ہے