یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا
کلام: ظفراقبال
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پرکب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملاکسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
غزال اشک سر صبح دوب مژگاں پرکب آنکھ اپنی کھلی اور لہو لہو نہ ملا
کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہےیقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہے
گزرنے والے تھے جو بھی گزر گئے لیکنمیان راہ کوئی بے خبر رکا ہوا ہے