9 اشعار

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے

Khadi hai shaam ki khwab-e-safar ruka hua hai

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے

«کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہے» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کھڑی ہے شام کہ خواب سفر رکا ہوا ہےیقین کیوں نہیں آتا اگر رکا ہوا ہے

گزرنے والے تھے جو بھی گزر گئے لیکنمیان راہ کوئی بے خبر رکا ہوا ہے

برس رہا ہے نہ چھٹتا ہے یہ کئی دن سےجو ایک ابر مری خاک پر رکا ہوا ہے

رواں بھی سلسلۂ اشک ہے ابھی کچھ کچھیہ قافلہ جو کہیں بیشتر رکا ہوا ہے

ابھی نکل نہیں سکتا گھروں سے کوئی یہاںکہ سیل آب ابھی در بدر رکا ہوا ہے

ہر ایک شے ہے کسی راکھ میں بدلنے کوکہیں جو خانۂ خس میں شرر رکا ہوا ہے

چلی ہوئی تھی مری بات جتنے زوروں سےاسی حساب سے اس کا اثر رکا ہوا ہے

پہنچ سکے کسی منزل پہ کیا مسافر دلکہ چل رہا ہے بظاہر مگر رکا ہوا ہے

یہ حرف و صوت کرشمے ہیں سب اسی کے ظفرؔلہو کے ساتھ رگوں میں جو ڈر رکا ہوا ہے

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں