نایاب کی آواز میں
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18
«کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔
کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہےدکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے
تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میںجو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے