7 اشعار

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

Koi to hai jo nizam-e-hasti chala raha hai, wahi Khuda hai

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے

«کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہےدکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آرہا ہے وہی خدا ہے

تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں ، وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میںجو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے ، وہی خدا ہے

وہی ہے مشرق وہی ہے مغرب ، سفر کریں سب اُسی کی جانبہر آئینے میں جو عکس اپنا دکھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

کسی کو سوچوں نے کب سراہا ، وہی ہوا جو خدا نے چاہاجو اختیارِ بشر پہ پہرے بٹھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

نظر بھی رکھے ،سماعتیں بھی ، وہ جان لیتا ہے نیتیں بھیجو خانہء لاشعور میں جگمگا رہا ہے ، وہی خدا ہے

کسی کو تاجِ وقار بخشے ، کسی کو ذلت کے غار بخشےجو سب کے ماتھے پہ مہرِ قدرت لگا رہا ہے ، وہی خدا ہے

سفید اُس کا سیاہ اُس کا ، نفس نفس ہے گواہ اُس کاجو شعلہء جاں جلا رہا ہے ، بُجھا رہا ہے ، وہی خدا ہے

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں