6 اشعار

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری

Nahin hai munhasir is baat par yaari hamari

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری

«نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماریکہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری

اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھناکہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری

مگر اچھا تو یہ ہوتا کہ ہم اک ساتھ رہتےبھری رہتی ترے کپڑوں سے الماری ہماری

ہم آسانی سے کھل جائیں مگر اک مسئلہ ہےتمہاری سطح سے اوپر ہے تہہ داری ہماری

ہمیں جیتے چلے جانے پہ مائل کرنے والییہاں کوئی نہیں لیکن سخن کاری ہماری

کہانی کار نے کردار ہی ایسا دیا ہےاداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں