نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری
کلام: جواد شیخ
نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماریکہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری
اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھناکہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماریکہ تو کرتا رہے ناحق طرف داری ہماری
اندھیرے میں ہمیں رکھنا تو خاموشی سے رکھناکہیں بیدار ہو جائے نہ بیداری ہماری
ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھےہم بھی کیا سادہ و پیچیدہ ہوا کرتے تھے
عکس بندی کی ہوس ان میں کہاں سے آئیمہرباں ہاتھ تو نادیدہ ہوا کرتے تھے