مقرر · کو ہوسٹ

نایاب

@voiceofIk_804

73
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
نایاب کی آواز میں

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

کلام: اعتبارساجد · محفل: ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد) · 2025-12-01

«ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھایہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا

میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترکاسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho ضیاء جالندھری غزل
  2. 02 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki اسماعیل راز
  3. 03 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ Ibtida sa kuch inteha sa kuch شاہین عباس آواز میں دستیاب
  4. 04 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 06 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain... جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 07 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے Dekha ek khwab toh yeh silsile hue جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 نہیں ہے منحصر اس بات پر یاری ہماری Nahin hai munhasir is baat par yaari hamari جواد شیخ آواز میں دستیاب