6 اشعار

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

Tere jaisa mera bhi haal tha na sukoon tha na qaraar tha

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا

«ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھا» اعتبارساجد کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ایک ہی شہر میں رہنا مگر ملنا نہیں (اعتبار ساجد)» میں 1 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

ترے جیسا میرا بھی حال تھا نہ سکون تھا نہ قرار تھایہی عمر تھی مرے ہم نشیں کہ کسی سے مجھ کو بھی پیار تھا

میں سمجھ رہا ہوں تری کسک ترا میرا درد ہے مشترکاسی غم کا تو بھی اسیر ہے اسی دکھ کا میں بھی شکار تھا

فقط ایک دھن تھی کہ رات دن اسی خواب زار میں گم رہیںوہ سرور ایسا سرور تھا وہ خمار ایسا خمار تھا

کبھی لمحہ بھر کی بھی گفتگو مری اس کے ساتھ نہ ہو سکیمجھے فرصتیں نہیں مل سکیں وہ ہوا کے رتھ پہ سوار تھا

ہم عجیب طرز کے لوگ تھے کہ ہمارے اور ہی روگ تھےمیں خزاں میں اس کا تھا منتظر اسے انتظار بہار تھا

اسے پڑھ کے تم نہ سمجھ سکے کہ مری کتاب کے روپ میںکوئی قرض تھا کئی سال کا کئی رت جگوں کا ادھار تھا

— اعتبارساجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں