مقرر · کو ہوسٹ

نایاب

@voiceofIk_804

73
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
نایاب کی آواز میں

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے

کلام: کیفی اعظمی · محفل: کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی · 2026-01-14

«یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتےوہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے

جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہےکہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آنکھوں میں نہاں ہے جو مناجات وہ تم ہو Aankhon mein nihan hai jo munajat wo tum ho ضیاء جالندھری غزل
  2. 02 کسی کی بات نہیں تھی لکیر پتھر کی Kisi ki baat nahin thi lakeer patthar ki اسماعیل راز
  3. 03 ابتدا سا کچھ انتہا سا کچھ Ibtida sa kuch inteha sa kuch شاہین عباس آواز میں دستیاب
  4. 04 اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو Ab kahan baqi raha noor mein bheega hua tu راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے Ae jazba-e-dil gar main chahoon har cheez muqabil aa jaye بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 06 میں اور میری تنہائی اکثر یہ باتیں کرتے ہیں۔۔۔ Main aur meri tanhai aksar yeh baatein karte hain... جاوید اختر آواز میں دستیاب
  7. 07 دیکھا ایک خواب تو یہ سلسلے ہوئے Dekha ek khwab toh yeh silsile hue جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 08 ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے Zara si baat pe nam-dida hua karte the جواد شیخ آواز میں دستیاب