3 اشعار

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے

Yun hi koi mil gaya tha sar-e-raah chalte chalte

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے

«یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے» کیفی اعظمی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی» میں 14 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتےوہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے

جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہےکہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے

شب انتظار آخر کبھی ہوگی مختصر بھییہ چراغ بجھ رہے ہیں مرے ساتھ جلتے جلتے

— کیفی اعظمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں