یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتے
کلام: کیفی اعظمی
یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتےوہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے
جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہےکہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے
کہ تیرا ذکربھی آئے گا اس فسانے میں کیفی اعظمی
مہمان شاعر: کیفی اعظمی
یوں ہی کوئی مل گیا تھا سر راہ چلتے چلتےوہیں تھم کے رہ گئی ہے مری رات ڈھلتے ڈھلتے
جو کہی گئی نہ مجھ سے وہ زمانہ کہہ رہا ہےکہ فسانہ بن گئی ہے مری بات ٹلتے ٹلتے