7 اشعار

ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے

Zara si baat pe nam-dida hua karte the

ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے

«ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

ذرا سی بات پہ نم دیدہ ہوا کرتے تھےہم بھی کیا سادہ و پیچیدہ ہوا کرتے تھے

عکس بندی کی ہوس ان میں کہاں سے آئیمہرباں ہاتھ تو نادیدہ ہوا کرتے تھے

اب ہمیں دیکھ کے لگتا تو نہیں ہے لیکنہم کبھی اس کے پسندیدہ ہوا کرتے تھے

تو نے کس موج میں یہ حال کیا ہے اپنالوگ کیا کیا ترے گرویدہ ہوا کرتے تھے

تجھ سے پہلے بھی مرے راز تھے اک شخص کے پاسفرق اتنا ہے کہ پوشیدہ ہوا کرتے تھے

صاحب الرائے کہاں اتنے بہم تھے پہلےیہ چنیدہ تو بہت چیدہ ہوا کرتے تھے

ان دنوں اتنے وسائل نہیں ہوتے تھے مگرپھر بھی کچھ لوگ جہاں دیدہ ہوا کرتے تھے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں