وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے
کلام: سعید شارق
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سےترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے
کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میںیہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے
دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق
مہمان شاعر: سعید شارق
وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سےترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے
کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میںیہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے
توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوںایسی گرہ لگا کے میں ہاتھ نہ پھر چُھڑا سکوں
اے مِرے ناتواں ملال! دیکھ رہا ہوں تیرا حالمرغِ طرب مِلے تو میں لا کے تجھے کھِلا سکوں