6 اشعار

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں

Tod sakoon na koi qufl, door kahin na ja sakoon

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں

«توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوں» سعید شارق کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

توڑ سکوں نہ کوئی قُفل، دُور کہِیں نہ جا سکوںایسی گرہ لگا کے میں ہاتھ نہ پھر چُھڑا سکوں

اے مِرے ناتواں ملال! دیکھ رہا ہوں تیرا حالمرغِ طرب مِلے تو میں لا کے تجھے کھِلا سکوں

کِس کو خبر کہ پھر یہاں کوئی بنا ہی دے مکاںدِل سے تری حویلی کا ملبہ اگر ہٹا سکوں

وقت ملے اگر تجھے آ کے اُڑا بھی دے مجھےتاکہ میں راکھ ہونے کا خُود کو یقیں دِلا سکوں

دِن کی چڑھائی اک طرف، رات کی کھائی اک طرفبیچ میں شام کی چٹان، کیا تِرے پاس آ سکوں!

آپ ہی ایک دیو ہوں، آپ ہی شاہزادہ ہوںکاش! لگوں میں اپنے ہاتھ، کاش! تجھے بچا سکوں

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں