5 اشعار

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے

Wahi zakhm sa wahi gard si wahi daagh se

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے

«وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سے» سعید شارق کا کلام ہے، جسے آبدار خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل میں اُترے نہ اُداسی سے بھری کہلائے سعید شارق» میں 5 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

وہی زخم سا وہی گرد سی وہی داغ سےترا دشت ملتا ہے کس قدر مرے باغ سے

کوئی ایسی راکھ بھری ہے میرے وجود میںیہ چراغ جلتا نہیں کسی بھی چراغ سے

تجھے اس لیے میں انڈیلتا نہیں دفعتاًکہیں تو چھلک ہی نہ جائے دل کے ایاغ سے

کوئی بات بھولنی ہو تو کیا ہے طریق کارکبھی پوچھ میرے لیے ہی اپنے دماغ سے

یہ جھگڑتی آنکھیں بگڑتی نیند الجھتے خوابوہی محویت ہی بھلی تھی ایسے فراغ سے

— سعید شارق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں