4 اشعار

آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والے

Aabroo-e-shab-e-teera nahin rakhne wale

آبروئے شب تیرہ نہیں رکھنے والےہم کہیں پر بھی اندھیرا نہیں رکھنے والے

آئنہ رکھنے کا الزام بھی آیا ہم پرجب کہ ہم لوگ تو چہرا نہیں رکھنے والے

ہم پہ فرہاد کا کچھ قرض نکلتا ہے سو ہمتم کہو بھی تو یہ تیشہ نہیں رکھنے والے

ہم کو معلوم ہیں از روئے‌‌ محبت سو ہمکوئی بھی درد زیادہ نہیں رکھنے والے

— ابھیشک شکلا