8 اشعار

دعا کے بس کا نہیں بد دعا کے بس کا نہیں

Dua ke bas ka nahin bad dua ke bas ka nahin

دعا کے بس کا نہیں بد دعا کے بس کا نہیںاک ایسا بندہ ہوں میں جو خدا کے بس کا نہیں

وہ سر پٹکتی ہے جھنجھلاتی ہے مرے اوپربس ایک تنکا ہوں میں اور ہوا کے بس کا نہیں

ہجوم چارہ گراں دنگ ہے ترا بیمارکسی بھی زہر کسی بھی دوا کے بس کا نہیں

برہنہ ہونا پڑے گا تجھے بھی میرے ساتھکہ ایک لمس بھی بند قبا کے بس کا نہیں

مجھے تو چھوڑ کہ میں اک جہان دیگر ہوںمرا خیال بھی اس بے وفا کے بس کا نہیں

خموشیو! تمہیں میرا بیان ہونا ہےوہ دکھ ہوں میں کہ جو صوت و صدا کے بس کا نہیں

یہی زمیں مرا دوزخ یہی زمیں جنتمرا مزاج سزا و جزا کے بس کا نہیں

مرے وجود میں تو تھا جہاں خلا ہے ابجو تیرے بس کا نہ تھا اب خلا کے بس کا نہیں

— ابھیشک شکلا