7 اشعار

سرخ سحر سے ہے تو بس اتنا سا گلہ ہم لوگوں کا

Surkh sahar se hai to bas itna sa gila hum logon ka

سرخ سحر سے ہے تو بس اتنا سا گلہ ہم لوگوں کاہجر چراغوں میں پھر شب بھر خون جلا ہم لوگوں کا

ہم وحشی تھے وحشت میں بھی گھر سے کبھی باہر نہ رہےجنگل جنگل پھر بھی کتنا نام ہوا ہم لوگوں کا

اور تو کچھ نقصان ہوا ہو خواب میں یاد نہیں ہے مگرایک ستارہ ضرب سحر سے ٹوٹ گیا ہم لوگوں کا

یہ جو ہم تخلیق جہان نو میں لگے ہیں پاگل ہیںدور سے ہم کو دیکھنے والے ہاتھ بٹا ہم لوگوں کا

بگڑے تھے بگڑے ہی رہے اور عمر گزاری مستی میںدنیا دنیا کرنے سے جب کچھ نہ بنا ہم لوگوں کا

خاک کی شہرت دیکھ کے ہم بھی خاک ہوئے تھے پل بھر کوپھر تو تعاقب کرتی رہی اک عمر ہوا ہم لوگوں کا

شب بھر اک آواز بنائی صبح ہوئی تو چیخ پڑےروز کا اک معمول ہے اب تو خواب زدہ ہم لوگوں کا

— ابھیشک شکلا