7 اشعار

در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریں

Dar-e-khayal bhi kholen siyah shab bhi karen

در خیال بھی کھولیں سیاہ شب بھی کریںپھر اس کے بعد تجھے سوچیں یہ غضب بھی کریں

وہ جس نے شام کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا ہےہم اس چراغ ہوا ساز کا ادب بھی کریں

سیاہیاں سی بکھرنے لگی ہیں سینے میںاب اس ستارۂ شب تاب کی طلب بھی کریں

یہ امتیاز ضروری ہے اب عبادت میںوہی دعا جو نظر کر رہی ہے لب بھی کریں

کہ جیسے خواب دکھانا تسلیاں دیناکچھ ایک کام محبت میں بے سبب بھی کریں

میں جانتا ہوں کہ تعبیر ہی نہیں ممکنوہ میرے خواب کی تشریح چاہے جب بھی کریں

شکست خواب کی منزل بھی کب نئی ہے ہمیںوہی جو کرتے چلے آئیں ہیں سو اب بھی کریں

— ابھیشک شکلا