7 اشعار

شہر میں روشنیاں گھر میں اجالے کم ہیں

Shehar mein roshniyan ghar mein ujale kam hain

شہر میں روشنیاں گھر میں اجالے کم ہیںجل اٹھیں آ کہ بہت ہیں یہ حوالے کم ہیں

راہ حق پہلے سے مشکل نظر آتی ہے ہمیںخوش نہ ہو کوئی اگر پاؤں میں چھالے کم ہیں

گھر تصور میں اگر ہے تو سڑک پر آ جااور وہ بول جسے بولنے والے کم ہیں

ہیں ادھر وہ کہ جو ظالم بھی ہیں شداد بھی ہیںاور ادھر وہ ہیں کہ جو ٹوٹنے والے کم ہیں

حاکم شہر ہمیں اتنا بھی مجبور نہ کرفیصلے کر لیے ہم نے جو وہ ٹالے کم ہیں

اتنی تاریک فضا پہلے کبھی تھی ہی نہیںہم نے جتنے بھی چراغ اب کے اچھالے کم ہیں

اے وطن جن کو یہ لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے وہاور کچھ ہوں گے ترے چاہنے والے کم ہیں

— ابھیشک شکلا