8 اشعار

خاک پر خون کی تحریر سے پہچانے گئے

Khak par khoon ki tehreer se pehchane gaye

خاک پر خون کی تحریر سے پہچانے گئےترے وحشی تری زنجیر سے پہچانے گئے

اپنی تصویر سے ممکن ہی نہ تھی اپنی شناختہم کسی اور کی تصویر سے پہچانے گئے

جن میں روشن تھا تری دید کا سودا وہ سرلاکھ اندھیرے میں بھی شمشیر سے پہچانے گئے

کیا قیامت ہے کہ سو بار کے سوچے ہوئے لوگسامنے آئے تو تاخیر سے پہچانے گئے

دوست پہچانے گئے اپنے نشانے سے اورہم بھی سینے میں لگے تیر سے پہچانے گئے

خواب میں تو کوئی چہرہ ہی نہیں تھا ان کاہیں کچھ اک غم کہ جو تعبیر سے پہچانے گئے

خامشی اصل میں اسلوب تھی ہم جیسوں کاہم اسی لہجۂ تقریر سے پہچانے گئے

ذہن تاریک میں بے نام و نسب تھے کچھ دردجو چمک اٹھنے کی تدبیر سے پہچانے گئے

— ابھیشک شکلا