9 اشعار

کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں

Kis ki rakhti hain ye majal ankhiyan

کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں

«کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاںکہ دیکھیں مکھ ترا سنبھال انکھیاں

سرمہ سیتی بنا سیاہ برنآج دل کوں ہوئی ہیں کال انکھیاں

رقص انجھواں کا بے اصول نہیںکف مژگاں سوں دے ہیں تال انکھیاں

جب اٹھاتی ہیں گریہ سیں طوفاںکف دریا کریں رومال انکھیاں

صید کرنے کوں دل کے مژگاں سوںروپتے ہیں بنا کے جال انکھیاں

دل کوں اک تل نہیں مرے آراملگی ہیں جب سوں تیرے نال انکھیاں

دل کی خونیں اگر نہیں تو کیوںاس قدر ہیں تمہاری لال انکھیاں

تیر مژگاں کمان ابرو سیںمارتی ہیں جگر میں بھال انکھیاں

آبروؔ جب کبھی نگاہ کریںتب لے جاں تن سیں جی نکال انکھیاں

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں