7 اشعار

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں

Yahi nahin ke zakhm-e-jaan ko chaara-jo mila nahin

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں

«یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیںیہ حال تھا کہ دل کو اسم آرزو ملا نہیں

ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھےوہ رہ گزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں

تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلاکبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں

وہ جیسے اک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیارفاقتیں تھیں اور یوں کہ روبرو ملا نہیں

تمام آئنوں میں عکس تھے مری نگاہ کےبھرے نگر میں ایک بھی مجھے عدو ملا نہیں

وراثتوں کے ہاتھ میں جو اک کتاب تھی ملیکتاب میں جو حرف ہے ستارہ خو ملا نہیں

وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بہ کو لیے پھریوہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں