8 اشعار

ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی

Har gaam sambhal sambhal rahi thi

ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی

«ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھییادوں کے بھنور میں چل رہی تھی

سانچے میں خبر کے ڈھل رہی تھیاک خواب کی لو سے جل رہی تھی

شبنم سی لگی جو دیکھنے میںپتھر کی طرح پگھل رہی تھی

روداد سفر کی پوچھتے ہومیں خواب میں جیسے چل رہی تھی

کیفیت انتظار پیہمہے آج وہی جو کل رہی تھی

تھی حرف دعا سی یاد اس کیزنجیر فراق گل رہی تھی

کلیوں کو نشان رہ دکھا کرمہکی ہوئی رات ڈھل رہی تھی

لوگوں کو پسند لغزش پاایسے میں اداؔ سنبھل رہی تھی

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں