7 اشعار

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید

Ghar ka rasta bhi mila tha shayad

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید

«گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے حسن شبیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 48 سیکنڈ ہے۔

گھر کا رستہ بھی ملا تھا شایدراہ میں سنگ وفا تھا شاید

اس قدر تیز ہوا کے جھونکےشاخ پر پھول کھلا تھا شاید

جس کی باتوں کے فسانے لکھےاس نے تو کچھ نہ کہا تھا شاید

لوگ بے مہر نہ ہوتے ہوں گےوہم سا دل کو ہوا تھا شاید

تجھ کو بھولے تو دعا تک بھولےاور وہی وقت دعا تھا شاید

خون دل میں تو ڈبویا تھا قلماور پھر کچھ نہ لکھا تھا شاید

دل کا جو رنگ ہے یہ رنگ اداؔپہلے آنکھوں میں رچا تھا شاید

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں