7 اشعار

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں

Nigah oat rahoon kasa-e-khabar mein rahoon

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں

«نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوںمیں بجھتے بجھتے بھی پیراہن شرر میں رہوں

میں خود ہی روز تمنا میں آپ شام فراقعجب نہیں جو اکیلی بھرے نگر میں رہوں

سلگ اٹھی تو اندھیروں کا رکھ لیا ہے بھرمجو روشنی ہوں تو کیوں چشم نوحہ گر میں رہوں

تمام عمر سفر میں گزار دوں اپنیتمام عمر تمنائے رہ گزر میں رہوں

لکھا گیا مجھے آواز خامشی کی طرحخود اپنا عکس بنوں سایۂ ہنر میں رہوں

وہ تشنگی تھی کہ شبنم کو ہونٹ ترسے ہیںوہ آب ہوں کہ مقید گہر گہر میں رہوں

اداؔ میں نکہت گل بھی نہ تھی صبا بھی نہ تھیکہ میہماں سی رہوں اور اپنے گھر میں رہوں

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں