9 اشعار

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا

Aage hareem-e-gham se koi raasta na tha

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا

«آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 9 سیکنڈ ہے۔

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا

دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھادل کا جو رنگ تھا وہ نظر سے چھپا نہ تھا

رنگ شفق کی دھوپ کھلی تھی قدم قدممقتل میں صبح و شام کا منظر جدا نہ تھا

کیا بوجھ تھا کہ جس کو اٹھائے ہوئے تھے لوگمڑ کر کسی کی سمت کوئی دیکھتا نہ تھا

کچھ اتنی روشنی میں تھے چہروں کے آئنہدل اس کو ڈھونڈھتا تھا جسے جانتا نہ تھا

کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئےاپنے سوا ہمیں تو کسی سے گلا نہ تھا

ہر اک قدم اٹھا تھا نئے موسموں کے ساتھوہ جو صنم تراش تھا بت پوجتا نہ تھا

جس در سے دل کو ذوق عبادت عطا ہوااس آستان شوق پہ سجدہ روا نہ تھا

آندھی میں برگ گل کی زباں سے ادا ہواوہ راز جو کسی سے ابھی تک کہا نہ تھا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں