9 اشعار

ایک موہوم اضطراب سا ہے

Ek mauhoom iztirab sa hai

ایک موہوم اضطراب سا ہے

«ایک موہوم اضطراب سا ہے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

ایک موہوم اضطراب سا ہےاک تلاطم سا پیچ و تاب سا ہے

امڈے آتے ہیں خودبخود آنسودل پہ قابو نہ آنکھ پر قابو

دل میں اک درد میٹھا میٹھا سارنگ چہرے کا پھیکا پھیکا سا

زلف بکھری ہوئی پریشاں حالآپ ہی آپ جی ہوا ہے نڈھال

سینے میں اک چبھن سی ہوتی ہےآنکھوں میں کیوں جلن سی ہوتی ہے

سر میں پنہاں تصور موہومہاے یہ آرزوے نامعلوم

ایک نالہ سا ہے بغیر آوازایک ہلچل سی ہے نہ سوز نہ ساز

کیوں یہ حالت ہے بے قراری کیسانس بھی کھل کے آ نہیں سکتی

روح میں انتشار سا کیا ہےدل کو یہ انتظار سا کیا ہے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں