6 اشعار

آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے

Aaghaz-e-mohabbat ka to anjaam nahin hai

آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے

«آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہےیہ صبح وہ ہے جس کی کبھی شام نہیں ہے

کیا دیکھتا ہے اپنے سوا دیکھنے والےآئینۂ دل جلوہ گہ عام نہیں ہے

اللہ ری تقدیر کی ناکامی پیہمیوں بیٹھا ہوں اب جیسے کوئی کام نہیں ہے

بے وجہ کیا قید اسیروں کو قفس میںصیاد کے سر پھر بھی تو الزام نہیں ہے

مرنے نہیں دیتی ہے رہائی کی تمنادنیا میں مجھے ورنہ کوئی کام نہیں ہے

اب خاک ہو ایمن کے بیاباں میں تجلیافقرؔ کوئی بے پردہ سر بام نہیں ہے

— افقر موہانی