7 اشعار

دل غنی ہے تو مفلسی کیا ہے

Dil ghani hai to muflisi kya hai

دل غنی ہے تو مفلسی کیا ہے

«دل غنی ہے تو مفلسی کیا ہے» افقر موہانی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

دل غنی ہے تو مفلسی کیا ہےگھر میں اللہ کے کمی کیا ہے

اک تلون ہے دو مزاجوں کادوستی کیا ہے دشمنی کیا ہے

ضد کی ہے اور بات اے ناصحورنہ بات آپ کی بری کیا ہے

حسن ہے بے نیاز جلووں سےچاند کیا جانے چاندنی کیا ہے

جان کی شرط ہے محبت میںاتنی سی بات بات ہی کیا ہے

ہر نفس یاد ہے تری اے دوستاور منشائے بندگی کیا ہے

کیا فرشتے بتائیں گے افقرؔہم سے پوچھو کہ آدمی کیا ہے

— افقر موہانی